الصفحة 74 من 389

اظہار ہیں۔ایسے ہی سنت خوبصورت یا خوش خصال سیرت وزندگی کو بھی کہا جاتا ہے جیسے خالد بن عتبۃ ھذلی کا شعر ہے:

فلا تجزعن من سیرة أنت سرتها فأوّل راض سنة من یسيره

''جس طریق زندگی کو اختیار کرے اس پر آہ وبکا کیسی۔پہلا پسندیدہ شخص وہی ہے جس کی پیروی کی جائے۔'' [1]

سنت کی بےشمار تعریفیں کرنے کی کوشش کی گئی ہیں، لیکن سنت نبویہ کے قریب لغوی معنی طریقہ ،سیرت اور روش حیات ہے۔

سنت کا اصطلاحی مفہوم

سنت کے اصطلاحی مفہوم کے سلسلہ میں علماے امت میں مقاصد کے باعث اختلاف ہوا ہے۔ علماے حدیث کا مقصود سنت سے ہمیشہ یہ رہا کہ نبی گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ تک رسائی حاصل کریں، تا کہ اسے رہ نما بن کر نشانات زندگی کے حدود و قیود کا تعین کیا جا سکے۔اصولیوں کا مطمع نگاہ یہ رہا ہے کہ ان مصادر و مآخذ تک اطلاع پانے کی کوشش و جستجو کی جائے، جن سے شریعت کے اخذ و استباط میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے سنت کے اس ذخیرہ کو تو جہات کا مرکز بنایا جو استباط احکام میں معاون ہو۔اسی طرح فقہاء کا مطلوب یہ رہا ہے کہ بندوں کے افعال کے حوالے سے سنت کی رہ نمائی حرام مکروہ اور فرض واجب کے لحاظ سے کیا ہے ۔لہذا انہوں کے سنت پر اس قبیل سے غور کیا ہے۔

زیر نظر مقالےمیں اصول اجتہاد سے بحث مقصود ہے لہٰذا سنت کو یہ طور ماخذ احکام اہل اصول نے کس نظر سے دیکھا ہے ذکر کیا جائےگا۔ جس میں یہ لحاظ ضروررکھا جائے گا کہ مکتب اہل سنت کے تمام مکاتب فکر احناف،شوافع،حنابلہ مالکیہ اور اہل الحدیث سنت کو بہ طور ماخذ شریعت کیا مفہوم پہناتے ہیں۔سیف الدین الآمدی الشافعی سنت کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

"وقد تطلق على ما صدر عن الرسول من الأدلته الشرعیة ممالیس بمتلو، ولاهو معجز و لا داخلً في المعجز وهذا النوع هو المقصود بالبیان هاهنا، وید خل في ذلك أقوال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم وأفعاله و تقاریره." [2]

''سنت کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے جو نبی گرامی قدر سے بہ طور شرعی دلیل کے منقول ہو، جو تلاوت نہ کی جاتی ہو ، کلام معجز بھی نہ ہو،اور معجزات نبوت میں شامل نہ ہو۔۔۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال افعال اور تقریرات داخل ہیں۔''

[2] آمدی،الاحکام فی اصول الاحکام، 169؍1 ط المکتب الاسلامی بیروت

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت