الصفحة 73 من 389

ماخذ دوم: سنت

ماخذ شریعت میں اہل السنتہ و الجماعۃ کے ہاں بالاتفاق دوسرا ماخذ سنت نبویہ ہے۔ جمہور اہل علم کے ہاں سنت کا مفہوم ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

سنت کا لغوی مفہوم

عربی زبان میں سنت کا اطلاق کئی ایک چیزوں پر ہوتا ہے جس میں الوجہ (چہرہ) بھی ہے کیونکہ اس کے خط و خال واضح ہوتے ہیں ایسےہی"صورت"پر بھی اس کا طلاق ہوتا ہے۔ جبیہ اور جبین کو سنت کہا جاتا ہے جیسا کہ ذوالرمۃ کا شعر ہے۔

تریك سنة وجه غير مفرقة لیس لها خال ولاندب

اس کے چہرے کے خط و خال غیر موزنیت سے مبرا ہیں نرم و سپاٹ چہرہ جس میں نہ کوئی عیب ہے نہ نشان ذخم۔

اعشی کہتے ہیں:

کریمًا شمائله من بنی معاوية الاکرمین السنین

وہ ( خوب صورت اوصاف) کا حامل ہے کیونکہ اس کا تعلق کا باعزت اور خوش شکل بنی معاویہ سے ہے۔

سنت کا اطلاق صورت اور ہر اس شے پر ہوتا ہے جو چہرے سے جھلکے جیسا کہ کہا جاتا:

"سنة الخدصفحته"اس کے گال کے خط کشادہ تھے۔ [1] ازہری سنت کے مفہوم کے سلسلہ میں رقم طراز ہیں:

''سنت ایک درست اور قابل ستائش راہ کا نام ہے، اسی سبب سے کہا جاتا ہے فلاں شخص اہل سنت میں سے یعنی کہ وہ ایک درست اور پسندیدہ منہج پر گام زن ہے۔''

سنت طبیعت اور عادت کو بھی کہا جاتا ہے اس لیے بعض اہل لغت نے اعشی کے شعر:

کریمًا شمائله من بنی معاوية الاکرمین السنین

کا مفہوم بیان کیا ہے کہ وہ خوبصورت عادات کے مالک بنی معاویہ کا باعزت فرزند تھا۔ گذشتہ سطور بالا میں چہرے کے معنی میں یہ شعر گزر چکا ہے۔ [2]

راغب اصفہانی سنت کے مفہوم کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ سنتِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معنی آپ کا وہ طریقہ ہے جس کی آپ علیہ السلام جستجو کرتے رہے اور سنت اللہ کا مفہوم ہے: طریقِ خداوندی، حکمت الہی اور اس کی فرمانبرداری کے طرق

[2] الزبیدی،تاج العروس، 344؍13 ط بیروت)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت