"واصطلاحا بذل المجتهد وسعه في طلب العلم بالحکم الشرعی بطریق الاستنباط من أدلة لاشرع." [1]
شیخ عبدالوہاب خلاف اجتہاد کی تعریف میں رقم فرماتے ہیں:
"الاجتهاد في اصطلاح الاصولیین هو بذل الجهد للوصول إلى الحکم الشرعی من دلیل التفصیلی من الأدلة الشرعیة." [2]
''اصولیوں نے اصطلاحًا اجتہاد یہ قرار دیا ہے کہ شرعی حکم تک رسائی کی خاطر اپنی کوشش کو بروئے کار لانا تفصیلی جرئی دلیل کے ذریعہ سے جو ادلہ شریعہ سے مستنبط ہو۔''
شیخ یوسف القرضاوی نے علامہ شوکانی کی رائے کو زیادہ بہتر قرار دیا ہے:
"وأما في اصطلاح الأصولیین فقد عبروا عنه لعبارات مفاتة، لعل أقربها ما قا له الامام الشوکاني في کتابه"إرشاد الفحول"في تعریف لقوله"بذل الوسع في نیل حکم شرع عملی بطریق الاستنباط." [3] "
''اہل اصول کی اصطلاح میں اجتہاد کی تعریف میں کئی مختلف تعبیرات منقول ہیں البتہ اجتہاد کے عمل کے لیے اقرب ترین تعریف وہ ہے جسے شوکانی رحمہ اللہ نے ارشاد الفحول میں ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ''عملی شرعی حکم و استنباط کے طریق پر معلوم کرنے کے لیے اپنی ہمت کو کھپا دینا اجتہاد ہے۔ ''
[2] اصول الفقہ الاسلامی ،ص:۲۵۷
[3] تلخیص الاصول ،ص:۶۱