الصفحة 64 من 389

"والاجتهاد تعریفات کثیرة تؤدل بجموعها إلى انه استفراغ الجهد في استنباط القضایا الدینیة شرعیة أو عقدیة وعقلیة أو نقلیة وقطعیة أو ظنیة من أدلتها التفصیلیة." [1]

''اجتہاد کی بے شمار تعریفات کی گئی ہیں ان سے مجموعی طور پر یہ سمجھ آتا ہے مسئال دینیہ شرعیہ ، مسائل عقیدہ، مسائل عقلیہ و نقلیہ اوراحکام قطعیہ اور ظنیہ کوان کے تفصیلی دلائل کے ذریعہ معلوم کرنا۔''

ڈاکٹر صبحی صالح نے اجتہاد کے دائرہ کار کو جو وسعت دےدی ہے یہ دیگر کے ہاں مفقود ہے کہ انھوں نے دائرہ اجتہاد میں فقہی احکام کے علاوہ عقیدہ اور عقلی مسائل کو بھی جگہ دے دی ہے۔فقہ المقارن کے معروف استاذ دکتور وھبۃ الزحیلی کے ہاں جامع تعریف قاضی بیضاوی کی تعریف ہے:

"التعریف في رأینا من التعاریف المنقولة، هو ما ذکره القاضی بیضاوی واستفراغ الجهد في دراك الأحکام الشرعیة والاستفراغ معناه بذل والوسع والطاقة وإدراك الأحکام اعم من أن یکون على سبیل القطع أو الظن." [2]

'' بہترین تعریف تمام منقولہ تعریفات میں سے وہ ہے جو قاضی بیضاوی سے منقول ہے کہ احکام شرعیہ کے جاننے میں اپنی کاوش کو صرف کرنا اور استفراغ کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی وسعت بھر طاقت کو صرف کرنا اور درک الاحکام بھی عام ہے کہ آپ احکام کو ظنی یا قطعی طور پر معلوم کریں۔''

عراق سے تعلق رکھنے والے عبدالکریم زیدان جدید دور میں ممتاز فقیہ شمار ہوتے ہیں۔ اجتہاد کی تعریف میں کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:

"وفي اصطلاح الأصولیین، بذل المجتهد وسعه في الطلب بالأحکام الشرعیة بطریق الاستنباط." [3]

''اصولین کی اصطلاح میں استنباط کےطریق پر مجتہد کا شرعی احکام کے حصول کے اپنے کاوش کو صرف کرنے کا نام اجتہاد ہے۔''

ڈاکٹر زیدان نے بھی قریب قریب دیگر علماء والی تعریف ہی کی ہے لیکن اسلوب میں تبدیلی بہرحال نمایاں ہے کہ حصول احکام شرعی کے لیے کاوش کرنا۔شیخ عبداللہ بن صالح الفوزان کے نزدیک مجتہد کاشرعی حکم کے بارے میں علم حاصل کرنے کی غرض سے استنباط کے اصول پر ادلہ شرعیہ میں اپنی صلاحیت صرف کرنے کا نام اجتہاد ہے۔

[2] اصول فقہ الاسلامی ۲؍۹۳۸

[3] الوجیز فی أصول الفقہ ،ص:۳۰۲

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت