الصفحة 63 من 389

معاصر علماء کی آراء

ہمارے دور کے جید اہلِ علم نے سارے قدیم تراث کو سامنے رکھ کر مجموعی طورجامع تعریف وضع کرنے کی سعی کی ہے۔،چناں چہ شیخ ابوزہرہ رحمہ اللہ اجتہاد کی تعریف میں لکھتے ہیں:

"وفي اصطلاح علماء الأصول بذل الفقیه وسعة في استنباط الأحکام العلمیة من أدلتها التفصیلة ویعرف بعض العلماء الاجتهاد في اصطلاح الأصولیین بأنه استفراغ الجهد وبذل غایه والوسع أما في استنباط الأحکام الشرعیة وأما في تطبیقاتها وکان الاجتهاد على هذا التعریف قسمین: أحدهما خاص بإستنباط الأحکام وبیانها وألف، الثاني خاص بتطبیقها." [1]

''علمائے اصول کی اصطلاح میں فقیہ کا اپنی تمام تر قوتوں کو برائے کار لاتے ہوئے عملی احکام کو تفصیلی دلائل کے ذریعہ مستنبط کرنا اجتہاد کہلاتا ہے ۔ بعض علماء نے اصولین کے نقطہ نگاہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ تمام تر جہد اور مکمل طاقت استنباط احکام اور تطبیق احکام میں صرف کرنا اجتھاد ہے ۔ اس تعریف کی رو سے اجتہاد دو چیزوں کا نام ہے ۔ اول استنباط احکام، دوم تطبیق احکام۔''

شیخ ابوزہرہ کے ہاں مجموعی طور پر اجتہاد دو چیزوں کا ہی نام ہے۔ اول استنباط احکام اور دوم تطبیق مسائل۔ پروفیسر تقی امینی بھی اجتہاد کے حؤالےسے احکام کی تطبیق کا ذکر کرتے ہیں:

"استفراغ الجهد وبذل غایة الوسیع أما في درك الأحکام الشرعیة وأما في تطبیقها." [2]

''تمام تر جہد اور غایت درجہ سعی شرعی احکام کے معلوم کرنے اور انھیں تطبیق دینے میں صرف کرنے کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔''

پروفیسر تقی امینی کے نزدیک اجتہاد دو چیزوں کا نام ہے:

11.احکام کے جاننے کے لیے سعی وجہد اجتہاد ہے۔

12.احکام کی تطبیق کے لیے غوروفکر کرنا بھی دائرہ اجتہاد میں شامل ہے۔

صبحی صالح کی تعریف میں کافی وسعت دکھائی دیتی ہے:

[2] اجتہاد ،ص:۲۱

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت