"و مَعْنَاهُ"اصْطِلاحًا: اسْتِفْرَاغُ الْفَقِيهِ"أَيْ ذُو الْفِقْهِ وَتَقَدَّمَ حَدُّ الْفَقِيهِ، وَهُوَ قَيْدٌ مُخْرِجٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لأَنَّهُ لا يُسَمَّى فِي الْعُرْفِ فَقِيهًا، وَلِلْمُقَلِّدِ"وُسْعَهُ"بِحَيْثُ تَحُسُّ النَّفْسُ بِالْعَجْزِ عَنْ زِيَادَةِ اسْتِفْرَاغِهِ"لِدَرْكِ حُكْمٍ"يَسُوغُ فِيهِ الاجْتِهَادُ وَهُوَ الظَّنِّيُّ"شَرْعِيٍّ"لِيَخْرُجَ الْعَقْلِيُّ وَالْحِسِّيُّ، وَلَمْ يُقَيِّدْهُ جَمَاعَةٌ بِذَلِكَ لِلاسْتِغْنَاءِ عَنْهُ بِذِكْرِ الْفَقِيهِ؛ لأَنَّ الْفَقِيهَ لا يَتَكَلَّمُ إلاَّ فِي الشَّرْعِيِّ." [1]
''اجتہاد کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ فقیہ کااپنی تمام تر قوت و کاوش کو شرعی حکم کے ادراک کے لیے صرف کر دینا (کاوش سے مراد ہے یہ ہے کہ اس قدر محنت صرف کرے کہ اس زیادہ محنت سے عاجز آجائے) اور حکم کےادراک سے مراد ہے کہ اجتہاد سے ظن غالب حاصل ہوجائے ۔ اور اس طرح شرعی کی قید سے عقلی اور حسی احکام خارج ہوگئے اس پر اہل علم اس لیے قید نہیں لگاتے کہ فقیہ کے تذکرے سے ہی اس سے استغنا حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ صرف شرعی احکام پر گفتگو کرتا ہے۔ فقیہ سے مراد ایسا صاحب تفقہ آدمی ہے جس کی تعریف گزر چکی ہے اس قید سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکہ وہ فقیہ نہیں ہوتا اور مقلد کو خارج کرنا مطلوب ہے۔''
متاخرین حنابلہ میں شیخ احمد شاکر نے اجتہاد کے سلسلے میں عملی احکام کا دائرہ کار مقرر کرنے کی رائے دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملی احکام ہی وہ احکام ہیں جن میں اجتہاد کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے جبکہ عقائد تو طے شدہ اور واضح ہیں اور ان کی جزئیات میں بہت ہی کم مواقع پر خال خال اجتہاد کیا جاتا ہے۔
"استفراغ الجهد (بالضم) ای الطاقة لتحصیل ظن بحکم شرعی عملي من الأدلة التفصیلیة." [2]
''تفصیلی دلائل کے ذریعہ عملی شرعی حکم کےبارے میں ظن غالب کے حصول کی خاطر اپنی طاقت کو صرف کرنااجتہاد کہلاتا ہے۔''
[2] اتحاف ذوی البصائر: ۸؍ ۱۰