خلاصہ بحث
گزشتہ صفحات میں مذاہب اربعہ کے نمائندہ علماء کی تعریفیں ذکر کی گئی ہیں ۔ اس میں ہر مذہب فقیہ کے الگ الگ علماء کا تذکرہ ہے ۔ جن کی اختصار کےساتھ بھی فہرست بنائی جائے تو قریبا پچاس سے زائد علماء کے موقف فکرو نظر کے سامنے آتے ہیں جن کا مختصرا تجزیہ یوں کیا جا سکتا ہے۔
مشترک تعریف؛مختلف الفاظ
تمام مذاہب کے جلیل القدر اہل علم اور اصولیوں کی تعریفات کااگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکارہ ہوتی ہے کہ فقہی مذاہب اور وابستگی کےاعتبار سے تعریفات میں کوئی خاص فرق نہیں ہے کہ جس سے ایک مذہب کے اہل علم کہ فقہی نتائج مختلف ہونے کی وجہ عمل اجتہاد یاطریقہ اجتہاد میں کوئی واضح فرق ہو ۔ یوں احساس ہوتا ہے کہ تمام اہل علم ایک ہی شرعی اصطلاح کو واضح کرنے میں اپنی سعی و جہد ایک ہی طریق پرصرف کر رہے ہیں۔ یہ امر تعریفات پر ایک نظر ڈالنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ مذاہب اربعہ کے تمام نمائندہ علماء تعبیر کے ادنی سےاختلاف کے ساتھ ایک ہی حقیقت کا اظہار کیا ہے جس سے یہ احساس قوی تر ہو جاتا ہے کہ جمہور امت کے ہاں اجتہاد کی تعریف میں بہت بڑا فرق نہیں ہے بلکہ ایک اجماعی حقیقت ہے۔
اجتہاد حکم ظنی ہے
جمہور علماء کی تعریفات کے مطالعہ سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اجتہاد کے نتیجے میں برامد ہونے کا والا حکم اپنی نہاد میں ایک ظنی حکم ہوتا ہے نہ کہ قطعی ۔ اس چیز کی طرف اگرچہ زیادہ توجہ علماء احناف نے کی ہے لیکن دیگر مذاہب کے ہاں بھی اس بات کا اثبات بہرحال موجود ہے جو ایک اہم نکتہ ہے۔ مثال کے طور پر احناف میں سے ابوبکر جصاص، سعد الدین تفتازانی، ابن ہمام اور دیگر علماء نے حکم ظنی کی شرط لگائی ہے۔ جب کہ شوافع میں حضرت زکریا الانصاری ،مالکیہ میں سیف الدین آمدی ،ابوعمروعثمان عمر نےاور حنابلہ میں شیخ احمدشاکر نے یہ شرط لگائی ہے۔
حتی الوسع کوشش و محنت
تمام مذاہب کے اصولیوں کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ بذریعہ اجتہاد شرعی حکم کےادراک کے لیے ایسی کاوش کی جائےگی کہ اس سے زیادہ انسانی بساط میں نہ ہو۔ گویا کہ اجتہاد بے انتہا محنت اوربے پناہ علمی وسعت کاتقاضا کرتا ہے۔
دائرہ اجتہاد ؛عملی مسائل
اس اہم نکتے پر قریب قریب تمام اہل علم متفق ہیں بعض نے توصراحت بھی کی ہے کہ اجتہاد کا دائرہ کار عملی مسائل ہیں ۔ فکری اور عقیدے کے مسائل میں اجتہاد شریعت نے گوارہ نہیں کیا کیونکہ عقیدے میں ظنیات کا دخل نہیں ہوتا بلکہ وہاں تمام