فهرس الكتاب

الصفحة 359 من 435

یتیم کے حقوق

یتیم وہ ہوتا ہے کہ بالغ ہونے سے قبل اس کی ماں یا اس کا باپ انتقال کرجائے۔وہ چونکہ باپ کے سایہ شفقت سے محروم ہوجاتا ہے،لہٰذا ہر مسلمان پر یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اس کو اپنی آغوش شفقت ومحبت میں لے۔اسے پیار کرے،اس سے محبت کرے،اس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال کی حفاظت کرے اور اس کی تعلیم وتربیت اسی طرح کرے جس طرح وہ اپنے بچوں کی کرتا ہے۔اور جب وہ عقل وشعور کی منزل پر پہنچ جائے تو اس کے باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد اس کو واپس کردے۔یتیم بچیوں کی حفاظت بھی ہر مسلمان کا فرض ہے اور ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کی شادی بیاہ کی فکر مسلمان معاشرہ کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے۔اسلام نے یتیم سے محبت وشفقت کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ ان کو جھڑکنے سے سختی سے منع کیا۔"فاما اليتيم فلا تقهر" پس تو یتیم کو نہ جھڑک۔"

قرآن حکیم میں یتیم سے محبت کرنے کا حکم ہے اور اس کی اہانت کرنے سے سختی سے روکا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

"کیا تو نے اس کو دیکھا جو انصاف کو جھٹلاتا ہے،سو وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔" (الماعون:1۔2)

اسلام نے یتیم کی تکریم کرنے کا حکم دیا اور جو یتیم کی عزت وتکریم نہیں کرتے ان کے بارہ میں فرمایا:

(كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ {17} وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت