فهرس الكتاب

الصفحة 172 من 435

کروڑ ساٹھ لاکھ جریب ٹھہرایا گیا۔ (کتاب الاموال: 1/164، کتاب الخراج: ص 23)

(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب"سیرت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: ص 471) "

(3)ضرائب:

جنگ کے زمانہ اور قحط سالی میں رفاہ عامہ اور عوام کی بے روزگاری دور کرنے کے لیے زکوٰۃ و صدقات کے علاوہ جو ٹیکس اہل ثروت حضرات پر حکومت کی جانب سے لگائے جاتے ہیں، شریعت اسلامی میں ان کو ضرائب کہتے ہیں۔ یہ بعض دفعہ لوگوں سے جبرًا بھی وصول کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"اگر بیت المال اور مال فئے فقراء اور اہل حاجت کی معاشی حاجتوں اور اقتصادی ضروریات کو پورا نہ کر سکیں تو رئیس مملکت اہل ثروت اور اغنیاء پر مزید ٹیکس عائد کر کے ان ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ اور اور اگر اہل ثروت اور اہل دولت ان کے مانع ہوں تو ان سے بالجبر بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔"

(ويجيرهم السلطان علي ذالك) (المحلی لابن حزم اندلسی: 6/155)

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے اس بارے میں مزید لکھا ہے کہ:

"ہر ملک کے مال دار لوگوں پر فرض ہے کہ اپنے غریب لوگوں کی کفالت کریں۔ اگر زکوٰۃ کی آمدنی اور سارے مسلمانوں کے فئے اس کے لیے کافی نہ ہو تو سربراہ مملکت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کرے گا۔ ان (غریبوں) کے لیے اتنے مال و زر کا انتظام کیا جائے گا جس سے وہ بقدر ضرورت غذا حاصل کر سکیں، اور اس طرح سردی اور گرمی کا لباس اور ایک ایسا مکان جو انہیں بارش، گرمی، دھوپ اور راہ گیروں کی نظروں سے محفوظ رکھ سکے۔"

(محلی لابن حزم: 6/165)

ایسا ہی کچھ امام شاطبی نے لکھا ہے۔ (الاعتصام: 2/295)

اسی سلسلہ میں علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول بھی نقل

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت