الصفحة 87 من 255

حاجت کو پورا کروں گا۔ [1]

ابو عمران موسی بھی:"جب ان کا مرید جہاں کہیں سے انہیں ندا کرتا، جواب دیتے اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے زائد۔" [2]

پھر جناب بریلوی اس مسئلے میں اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"جو شخص بھی کسی نبی یا رسول یا کسی ولی سے وابستہ ہو گا، تو وہ اس کے پکارنے پر حاضر ہو گا اور مشکلات میں اس کی دستگیری کرے گا۔" [3]

سلسلہ تصوف سے متعلق مشائخ بھی اپنے مریدوں کو مشکلات سے رہائی عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جناب احمد رضا لکھتے ہیں:

"صوفیہ کے مشائخ سختی کے وقت اپنے پیروکاروں اور مریدوں کی نگہبانی فرماتے ہیں" [4]

اہل قبور سے استعانت کے عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے جناب بریلوی رقم طراز ہیں:

"جب تم کاموں میں متحیر ہو تو مزارات اولیاء سے مدد مانگو۔" [5]

قبروں کی زیارت کے فوائد بیان کرتے ہوئے جناب احمد رضا کے ایک پیروکار کہتے ہیں:

"قبروں کی زیارت سے نفع حاصل ہوتا ہے نیک مردوں سے مدد ملتی ہے۔" [6]

مزید کہتے ہیں:

"زیارت سے مقصود یہ ہے کہ اہل قبور سے نفع حاصل کیا جائے۔" [7]

[2] مجموعہ رسائل رضویہ از بریلوی ج1 ص182 ط کراچی۔

[3] فتاویٰ افریقہ از بریلوی ص 135۔

[4] حیات الموات درج در فتاویٰ ج4 ص 289۔

[5] الامن والعلی ص 44۔

[6] کشف فیوض از محمد عثمان بریلوی ص 39۔

[7] ایضًا ص 43۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت