حاجت کو پورا کروں گا۔ [1]
ابو عمران موسی بھی:"جب ان کا مرید جہاں کہیں سے انہیں ندا کرتا، جواب دیتے اگرچہ سال بھر کی راہ پر ہوتا یا اس سے زائد۔" [2]
پھر جناب بریلوی اس مسئلے میں اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"جو شخص بھی کسی نبی یا رسول یا کسی ولی سے وابستہ ہو گا، تو وہ اس کے پکارنے پر حاضر ہو گا اور مشکلات میں اس کی دستگیری کرے گا۔" [3]
سلسلہ تصوف سے متعلق مشائخ بھی اپنے مریدوں کو مشکلات سے رہائی عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جناب احمد رضا لکھتے ہیں:
"صوفیہ کے مشائخ سختی کے وقت اپنے پیروکاروں اور مریدوں کی نگہبانی فرماتے ہیں" [4]
اہل قبور سے استعانت کے عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے جناب بریلوی رقم طراز ہیں:
"جب تم کاموں میں متحیر ہو تو مزارات اولیاء سے مدد مانگو۔" [5]
قبروں کی زیارت کے فوائد بیان کرتے ہوئے جناب احمد رضا کے ایک پیروکار کہتے ہیں:
"قبروں کی زیارت سے نفع حاصل ہوتا ہے نیک مردوں سے مدد ملتی ہے۔" [6]
مزید کہتے ہیں:
"زیارت سے مقصود یہ ہے کہ اہل قبور سے نفع حاصل کیا جائے۔" [7]
[2] مجموعہ رسائل رضویہ از بریلوی ج1 ص182 ط کراچی۔
[3] فتاویٰ افریقہ از بریلوی ص 135۔
[4] حیات الموات درج در فتاویٰ ج4 ص 289۔
[5] الامن والعلی ص 44۔
[6] کشف فیوض از محمد عثمان بریلوی ص 39۔
[7] ایضًا ص 43۔