الصفحة 57 من 255

میری لائبریری میں پندرہ ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ فرق سے متعلقہ ہزاروں کتب میرے زیر مطالعہ رہ چکی ہیں۔ خود البریلویہ کی تصنیف کے لیے میں نے 300 سے زائد کتب و رسائل کا مطالعہ کیا ہے۔

اور تقریبًا ہر کتاب کے حاشیہ پر تعلیقات بھی لکھی ہیں۔ اس حساب سے میری تصنیفات ہزاروں سے متجاوز ہو جاتی ہیں۔

اگر معاملہ یہی ہو تو اس میں فخر کی بات کون سی ہے؟ آخر میں پھر ہم اس سلسلے میں بریلوی حضرات کے متضاد اقوال کو دہراتے ہیں۔ خود احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی کتب کی تعداد 200 ہے . [1]

ان کے ایک خلیفہ کا ارشاد ہے 350 ہے۔ [2]

بیٹے کا قول 400 ہے۔ [3]

انوار رضا کے مصنف کہتے ہیں 548 ہے . [4]

بہاری صاحب کا کہنا ہے 600 ہے . [5]

ایک صاحب کا فرمان ہے کہ ایک ہزار ہے۔ [6]

اعلیٰ حضرت کی تمام وہ کتب و رسائل جو آج تک چھپی ہیں، ان کی تعداد 125 سے زائد نہیں۔ [7]

اور یہ وہی ہیں جن کے مجموعے کا نام فتاویٰ رضویہ ہے۔ یہاں ہم بریلوی حضرات کی ایک اور کذب بیانی نقل کرتے ہیں۔ مفتی برہان الحق قادری کہتے ہیں:

[2] المجمل المعدد

[3] الدولۃ المکیہ 323

[4] الدولۃ المکیہ 323

[5] حیات اعلیٰ حضرت ص 13

[6] ضمیمہ المعتقد المتقلد ایضًا من ہو احمد رضا ص 25

[7] انوار رضا ص 325

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت