"اعلیٰ حضرت نے اپنی زبان مبارک سے کبھی غیر شرعی لفظ ادا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کی لغزشوں س محفوظ رکھا۔" [1]
نیز یہ کہ:
"اعلیٰ حضرت بچپن ہی سے غلطیوں سے مبرا تھے۔ صراط مستقیم کی اتباع آپ کے اندر ودیعت کر دی گئی تھی۔ [2] "
انوار رضا میں ایک صاحب بڑے برملا انداز میں تحریر فرماتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم اور زبان کو غلطیوں سے پاک کر دیا تھا۔" [3]
مزید کہا جاتا ہے:
"اعلیٰ حضرت غوث اعظم کے ہاتھ میں اس طرح تھے جیسے کاتب کے ہاتھ میں قلم، اور غوث اعظم رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ میں اس طرح تھے جیسے کاتب کے ہاتھ میں قلم۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وحی کے سوا کچھ ارشاد نہ فرماتے تھے۔" [4]
ایک بریلوی شاعر اپنے اعلیٰ حضرت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں
ہے حق کی رضا احمد کی رضا
احمد کی رضا مرضی رضا
(یعنی احمد رضا بریلوی) [5]
ان کے ایک اور پیروکار لکھتے ہیں:
"اعلیٰ حضرت کا وجود اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا۔" [6]
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ایک گستاخ اپنے امام و راہنما کے بارے میں
[2] انوار رضا ص 223
[3] ایضًا271
[4] ایضًا 270
[5] باغ فردوس مصنفہ ایوب رضوی ص7
[6] انوار رضاص 100