خود احمد یار نے فتاویٰ عالمگیری سے نقل کیا ہے کہ:
"قبروں پر شمعیں روشن کرنا بدعت ہے۔"
اسی طرح فتاویٰ بزازیہ میں بھی ہے کہ"قبرستان میں چراغ لے جانا بدعت ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں۔" [1]
ابن عابدین فرماتے ہیں:
"مزاروں پر تیل یا شمعوں وغیرہ کی نذر چڑھانا باطل ہے۔" [2]
علامہ حصکفی حنفی فرماتے ہیں:
"وہ نذر و نیاز جو عوام کی طرف سے قبروں پر چڑھائی جاتی ہے، خواہ وہ نقدی کی صورت میں ہو یا تیل وغیرہ کی شکل میں، وہ بالاجماع باطل اور حرام ہیں۔" [3]
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"قبروں پر روشنی کرنا جاہلیت کی رسموں میں سے ہے۔" [4]
علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"قبروں پر سے چراغوں اور شمعوں کو ہٹانا ضروری ہے۔ ایسی کوئی نذر جائز نہیں۔" [5]
اسی طرح:
"چادر وغیرہ سے قبر کو ڈھانپنا بھی درست نہیں" [6]
[2] ردّ المختار از ابن عابدین شامی جلد2 ص 139۔
[3] ردّ المختار از حصکفی جلد2 ص 139۔
[4] فتاویٰ عالمگیری جلد 1 ص 178۔
[5] روح المعانی جلد 15 ص 219۔
[6] فتاویٰ مطالب المومنین۔