الصفحة 169 من 255

خود احمد یار نے فتاویٰ عالمگیری سے نقل کیا ہے کہ:

"قبروں پر شمعیں روشن کرنا بدعت ہے۔"

اسی طرح فتاویٰ بزازیہ میں بھی ہے کہ"قبرستان میں چراغ لے جانا بدعت ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں۔" [1]

ابن عابدین فرماتے ہیں:

"مزاروں پر تیل یا شمعوں وغیرہ کی نذر چڑھانا باطل ہے۔" [2]

علامہ حصکفی حنفی فرماتے ہیں:

"وہ نذر و نیاز جو عوام کی طرف سے قبروں پر چڑھائی جاتی ہے، خواہ وہ نقدی کی صورت میں ہو یا تیل وغیرہ کی شکل میں، وہ بالاجماع باطل اور حرام ہیں۔" [3]

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"قبروں پر روشنی کرنا جاہلیت کی رسموں میں سے ہے۔" [4]

علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"قبروں پر سے چراغوں اور شمعوں کو ہٹانا ضروری ہے۔ ایسی کوئی نذر جائز نہیں۔" [5]

اسی طرح:

"چادر وغیرہ سے قبر کو ڈھانپنا بھی درست نہیں" [6]

[2] ردّ المختار از ابن عابدین شامی جلد2 ص 139۔

[3] ردّ المختار از حصکفی جلد2 ص 139۔

[4] فتاویٰ عالمگیری جلد 1 ص 178۔

[5] روح المعانی جلد 15 ص 219۔

[6] فتاویٰ مطالب المومنین۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت