کل کے واقعات، بارش ہو گی یا نہیں، موت کہاں آئے گی، قیامت کب قائم ہو گی؟" [1] "
مزید برآں حضرت جابر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ارشاد فرمایا:"تم مجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہو حالانکہ اس کا علم تو سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی کو نہیں۔" [2]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں:"
وقت قیامت،نزول بارش،مافی الارحام،واقعات،واقعات مستقبل اور مقام موت" [3] "
آیات قرآنیہ اور اس مفہوم کی بہت ساری احادیث کتب حدیث میں موجود ہیں، مگر بریلوی حضرات تعلیمات نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم کو پس پشت ڈالتے ہوئے بالکل اس کے برعکس عقیدہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ احمد رضا بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ و سلم دنیا سے تشریف لے گئے، مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ان پانچ غیبوں کا علم دے دیا۔" [4]
مزید ارشاد ہوتا ہے:
"حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو پانچوں غیبوں کا علم تھا، مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ان سب کو مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔" [5]
ایک دوسرے بریلوی کا ارشاد سنئے۔ لکھتے ہیں:
"حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تمام گزشتہ اور آئندہ واقعات، جو لوح محفوظ میں ہیں، ان کا بلکہ"
[2] مسلم۔
[3] مسند احمد،ابن کثیر،فتح الباری۔
[4] خالص الاعتقادص 53۔
[5] خالص الاعتقاد ص 56 (الدولتہ المکیتہ بالمادہ الغیبیہ ص 441) ۔