الصفحة 118 من 255

"انتقال کے بعد انہوں نے فرمایا: میرا جنازہ جلدی لے چلو، حضور صلی اللہ علیہ و سلم جنازے کا انتظار فرما رہے ہیں۔" [1]

اس طرح کی اسرائیلی اساطیر اور خود ساختہ واقعات پر انہوں نے اپنے مذہب کی عمارت قائم کی ہے۔

اب ذرا س مشرکانہ عقیدے کے متعلق قرآن کریم کی وضاحت سنئے اور ملاحظہ فرمایئے کہ کس طرح سے ان لوگوں کے رگ و پے میں شرک کے اثرات سرایت کر گئے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَ ہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْن } [2]

"اور اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہو گا، جو اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے؟ جو قیامت تک بھی اس کی بات نہ سنے، بلکہ انہیں ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو۔"

اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

[2] سورۃ احقاف آیت 5

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت