الصفحة 115 من 255

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی توہین کا ارتکاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی کتب میں لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دفن کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم زندہ تھے۔ چنانچہ جناب بریلوی ارشاد کرتے ہیں:

"قبر شریف میں اتارتے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم"امتی امتی"فرما رہے تھے۔" [1]

جناب بریلوی کے متبع کا فرمان سنئے:

"جس وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی روح اقدس قبض ہو رہی تھی، اس وقت بھی جسم میں حیات موجود تھی۔" [2]

مزید سنئے:

"ہمارے علماء نے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں۔ اپنی امت کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات و نیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بالکل ظاہر ہیں۔ ان سے پوشیدہ نہیں۔" [3]

ایک اور بریلوی امام تحریر کرتے ہیں۔

:تین روز تک روضہ شریف سے برابر پانچ وقت اذان کی آواز آتی رہی۔" [4] "

نیز ارشاد ہوتا ہے:

جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جنازہ حجرہ مبارک کے سامنے رکھا گیا آواز آئی { ادخلوا الحبیب الی الحبیب }

یعنی دوست کو دوست کے پاس لے آؤ۔" [5] "

[2] حیات النبی صلی اللہ علیہ و سلم ص 104۔

[3] جاء الحق احمد یار بریلوی ص 151،150۔

[4] بادیۃً الطریق التحقیق والتقلید، دیدار علی ص 86۔

[5] حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم ص 125۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت