الصفحة 100 من 255

بریلوی فرقے کے ایک دوسرے راہنما لکھتے ہیں:

آقائے دوجہاں سخی داتا ہیں اور ہم ان کے محتاج ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ ان سے استمداد نہ کی جائے؟" [1] "

دوسری جگہ کہتے ہیں:

خالق کل نے آپ کو مالک کل بنا دیا

دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں

اسی لیے حضرت آدم علیہ السلام نے عرش پر حضور علیہ السلام کا نامِ پاک لکھا دیکھا، تاکہ معلوم ہو کہ مالک عرش آپ ہیں" [2] "

ایک اور جگہ نقل کرتے ہیں:

حضور مدینہ منورہ میں رہ کر ذرے ذرے کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور ہر جگہ آپ کا عمل درآمد اور تصرف بھی ہے" [3] "

بریلویت کے فرماں رواں جناب احمد رضا صاحب بریلوی کہتے ہیں:

حضور صلی اللہ علیہ و سلم خلیفہ اعظم اور زمین و آسمان میں تصرف فرماتے ہیں۔ [4]

جناب احمد رضا کے ایک پیروکار اپنے مطاع و مقتدا سے نقل کرتے ہیں کہ:

"رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم زمینوں اور لوگوں کے مالک ہیں اور تمام مخلوقات کے مالک ہیں۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ میں نصرت اور مدد کی کنجیاں ہیں اور انہی کے ہاتھ میں جنت و دوزخ کی کنجیاں ہیں۔ اور وہی ہیں جو آخرت میں عزت عطا فرماتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مصیبتوں اور تکالیف کو دور فرماتے ہیں اور وہ اپنی امت کے محافظ اور مددگار ہیں۔" [5]

[2] مواعظ نعیمیہ ص 41۔

[3] مواعظ نعیمیہ ص 336۔

[4] الفتاویٰ الرضویہ ج6 ص 155۔

[5] انواررضا 240 مقالہ اعجاز البریلوی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت