فطری طور پر مرد کی تخلیق وساخت عورت سے بلند تررکھی گئی ہے،اﷲ تعالیٰ نے فرمایاہے:
{اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ وَّ بِمَا أ نْفَقُوْا مِنْ أمْوَا لِہِمْ} [1]
''مردعورتوں پر حاکم ہیں،اس لیے کہ اﷲ نے ایک کودوسرے پرفوقیت دی ہے اوراس وجہ سے بھی کہ ا نہوں نے اپنے مال خرچ کییٔ۔''
علّامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھاہے کہ:''مردعورت پر فائق ہے،اس کاسردار ہے،اس کامالک اورحاکم ہے،اس کامشرف ومربیّ اوراستاذہے۔'' [2]
نیز اس معنی کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے:
(( لوکنت آمرًا أحدًا أن یسجد لغیراللّٰہ،لأمرتُ المرأۃ أن تسجدَ لزوجہا……… ) ) [3]
''اگر میں کسی کو غیراﷲکے سجدہ کاحکم دیتاتوعورت کوحکم دیتاکہ
[2] تفسیرابن کثیر ۱؍۷۴
[3] صحیح الجامع الصغیرللالبانی:۵۲۹۵