''اوراس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیتیں سنائی گئیں،پھربھی ان سے اس نے منہ پھیرلیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناہگاروں سے انتقام لینے والے ہیں۔''
سابقہ سطور میں اسلام سے خارج کردینے والے چندکاموں کامختصرًاتذکرہ تھااورچونکہ مسلمان عورت کاایک قیمتی زیوراورجوہری ہتھیاراس کی نمازہے،ترکِ صلوٰۃ ایک عظیم جرم،گھناؤنامرض اوربہت بڑی آفت ہے،بے نماز شیطان کے معاون،رحمان کے دشمن،مومنوں کے حریف اورکافروں کے حلیف و بھائی ہیں۔ان کاحشر فرعون وقارون اورہامان وابیّ بن خلف کے ساتھ ہوگا،اوروہ ان ہی کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:
(( بَینَ الرَّجُلِ وَ بَینَ الْکُفْرِأوالشِّرْکِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ ) ) [1]
''آدمی اورکفر یاشرک کے درمیان حدِفاصل نماز ہی ہے۔''
ایک دوسری حدیث میں عبداﷲ بن شقیق العقیلی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
(( کَانَ أ صْحَابُ رَسُولِ ا للّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَا یَرَونَ شَیئًا مِّنَ الأ عْمَالِ تَرْکُہٗ کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلَا ۃِ ) ) [2]
[2] سنن الترمذی،کتاب الایمان:۲۵۴۶والحاکم وصححاہ