''لَمْ یُحْفَظْ أَنَّہٗ کَانَ فِيْ الْاِسْلَامِ صَلَاۃٌ بِغَیْرِ الْفَاتِحَۃِ''
''اسلام میں فاتحہ کے بغیر نماز کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔''
امام بخاری و سیوطی رحمہما اللہ کے بیان کردہ اس تواترِ عملی و تواترِ قولی سے معلوم ہوا کہ عموم کی تعیین سورت فاتحہ سے کرنا بالاتفاق جائز ہے،بلکہ لازمًا سورت فاتحہ ہی مراد لینا ہو گا،کیوں کہ حدیث سے صرف اسی کی تعیین ہی ثابت ہوتی ہے اور نماز اچھی طرح نہ پڑھنے والے صحابی والی معروف حدیث سے بھی اس آیت کی تفسیر ہوتی ہے،چنانچہ اس حدیث کے بعض طُرق میں ہے:
(( ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَیَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ) )
''پھر قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھو جو تمھیں یاد ہو۔''
بعض روایات میں صراحتًا مذکور ہے:
(( ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ أَوْ بِمَا شَائَ اللّٰہُ اَنْ تَقْرَأَ ) ) [1]
''پھر ام القرآن اور مزید جتنا اللہ چاہے اتنا پڑھو۔''
اس حدیث کے آخر میں ہے:
(( ثُمَّ افْعَلْ ذٰلِکَ فِيْ صَلاتِکَ کُلِّہَا ) ) [2]
''پھر ساری نماز کی ہر رکعت کو اسی طرح پڑھو۔''
علامہ عینی اور ابن ہمام رحمہما اللہ نے اس سے آخری دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ [3]
جب کہ ابو داود میں ام القرآن کے الفاظ واضح ہیں۔استاذالاساتذہ حضرت
[2] بخاري مع الفتح (۲؍۲۳۷،۲۷۷)
[3] احسن الکلام (۱؍۲۷۱) بحوالہ توضیح الکلام (۱؍۱۰۵،۱۰۶)