سکون یا جزم اور دال کی پیش کے ساتھ''لا تَعْدُ''مانا ہے جس کا معنی یہ بنتا ہے کہ دوڑ کر مت آؤ۔ان آخری دونوں کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے۔ [1]
امیر صنعانی نے سبل السلام میں کہا ہے:
''روایت میں''عَوْد''سے''لَاتَعُدْ''ہی سب سے صحیح تر اعراب واحفظ ہے۔'' [2]
اسے ہی حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ترجیح دی ہے۔ [3]
قائلینِ رکعت کے انداز اور وجۂ استدلال سے پتا چلتا ہے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہ رکعت شمار کی تھی،جب کہ مانعینِ رکعت کا کہنا ہے کہ صحیح بخاری شریف کے وہ الفاظ جو بڑے شد و مد سے پیش کیے جاتے ہیں،ان میں قطعًا اس بات کا ذکر،حتیٰ کہ احتمال تک بھی نہیں پایا جاتا کہ ان کی وہ رکعت ہو گئی ہو اور انھوں نے اسے شمار کر لیا ہو،چنانچہ امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
''فَلَیْسَ فِیْہِ مَا یَدُلُّ عَلیٰ مَا ذَہَبُوْا إِلَیْہِ،لِأَنَّہ کَمَا لَمْ یَأْمُرْہُ بِالْاِعَادَۃِ،لَمْ یُنْقَلْ إِلَیْنَا اَنَّہُ إِعْتَدَّ بِھَا،وَالدُّعَائُ لَہُ بِالْحِرْصِ لَا یَسْتَلْزِمُ الْاِعْتِدَادَ بِھَا وَالْاِحْتِجَاجُ بِشَیْئٍ قَدْ نُھِيَ عَنْہُ لَا یَصِحُّ' [4]
''اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے،کیوں کہ انھیں رکعت کے
[2] سبل السلام (۱؍۲؍۳۳)
[3] الفتح (۲؍۲۶۹)
[4] النیل (۲؍۳؍۵۷)