فهرس الكتاب

الصفحة 61 من 248

اس آیت سے وجۂ استدلال یوں ہے کہ نماز میں مطلق قراء ت کی فرضیت پر تو علمائے احناف نے بھی اس آیت سے استدلال کیا ہے،اور ان کے نزدیک اس آیت کا مخاطب جس طرح منفرد ہے ویسے ہی امام و مقتدی بھی تو ہے،لہٰذا یہ آیت جس طرح منفرد سے قراء ت کا تقاضا کرتی ہے،ایسے ہی امام و مقتدی سے بھی۔اب رہا معاملہ یہ کہ اس آیت میں { مَا تَيَسَّرَ } سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں علمائے احناف کے دو قول ہیں۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک قرآن کی کوئی ایک آیت اور امام ابو یوسف و محمد رحمہما اللہ کے نزدیک تین آیتیں ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ آیت کے الفاظ { مَا تَيَسَّرَ } کی تعیین ایک آیت یا تین آیتوں سے کرنا محض ایک دعویٰ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے نہ قرآن و سنت سے اور نہ اجماعِ امت ہی سے،بلکہ اس کے برعکس قائلینِ وجوب ِ فاتحہ کا کہنا ہے کہ یہاں { مَا تَيَسَّرَ} سے مراد سورت فاتحہ ہے،کیوں کہ وہی''السبع المثاني''یعنی نماز میں بار بار پڑھی جانے والی ہے،جیسا کہ پہلی آیت کے تحت بعض احادیث و آثار ذکر کیے گئے ہیں اور (( لَا صَلَاۃَ إِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ) )والی حدیث کہ''فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔''متواتر حدیث ہے،جیسا کہ امام بخاری نے ''جزء القراءة'' (ص:۴) میں کہا ہے اور ایک جگہ یہاں تک لکھا ہے:

(( وَأَہْلُ الصَّلَاۃِ مُجْتَمِعُوْنَ فِيْ بِلَادِ الَمُسْلِمِیْنَ فِيْ یَوْمِہِمْ وَ لَیْلَتِہِمْ عَلیٰ قِرَائَۃِ اُمِّ الْقُرْآنِ ) )

''پورے عالمِ اسلام کے تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ نماز میں سورت فاتحہ پڑھنی چاہیے۔''

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے''الإتقان'' (۱؍۱۲) میں لکھا ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت