فهرس الكتاب

الصفحة 90 من 328

1۔ یہ بات خلاف عقل ہوتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قوم کو علم فلکیات کے ذریعہ اور اعداد وشمار کےذریعہ چاند کی روئیت کا فیصلہ کرنے کا مشورہ دیتے جو اَن پڑھ اور ناخواندہ تھی۔ جیساکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی اعتراف کیا کہ ہم تو ناخواندہ امت ہیں، ہمیں لکھنا اورحساب رکھنا کہاں آتا ہے۔ اس ناخواندہ قوم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی روئیت کے لیے ایسے طریقہ کار کاحکم دیا، جو اس کے بس میں تھا اور جو اس قدیم زمانے میں ہرشخص کے لیے آسان ترین طریقہ تھا اور وہ تھا آنکھوں سے چانددیکھنا۔ اب اگر اس ترقی یافتہ زمانے میں چاند کا پتہ کرنے کے لیے دوسرے یقینی ذرائع میسر ہیں توان ذرائع کے استعمال میں کیا قباحت ہوسکتی ہے؟

2۔ دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے کے علاوہ"فَاقْدِرُوا لَهُ"کا بھی حکم دیا ہے۔ اس جملہ کا سیدھا سادھا ترجمہ یہ ہے کہ چاند کا اندازہ کرلو ظاہر ہے کہ علم فلکیات کے اعدادوشماربھی تو اندازہ کرنے کاایک یقینی طریقہ ہے۔

3۔ حدیث میں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کاحکم ہے لیکن اصل مقصد چاند دیکھنا نہیں ہے بلکہ اصل مقصد صحیح وقت پر روزہ رکھنا ہے۔ اس اصل مقصد کے حصول کےلیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کے لحاظ سے ایک آسان طریقہ چاند دیکھنا بتایا ہے۔

لیکن اس حدیث میں اس بات کی ممانعت نہیں ہے کہ ہم دوسرے طریقے اختیار نہیں کرسکتے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اگر اصل مقصد کے حصول کے لیے دوسرے بہترطریقے میسر ہیں تو انھیں اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ خاص کر ایسی صورتِ حال میں کہ چاند کا دیکھنا اس دور میں کافی مختلف فیہ مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کی وجہ سے بڑے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ اگر علم فلکیات کے اعدادوشمار کے ذریعے ان مسائل اور اختلاف کو ختم کیاجاسکتا ہے، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس طریقہ کار کواختیار کریں۔

مختصر یہ کہ میں طویل عرصہ سے اپنے مسلمان بھائیوں سے اپیل کرتا آیاہوں کہ ہر سال عید اور رمضان کے موقع پر چاند کی وجہ سے ہمارے درمیان جو شدید اختلافات

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت