فهرس الكتاب

الصفحة 91 من 328

رونما ہوجاتے ہیں بلکہ بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے، یہ کافی افسوس ناک صورت حال ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔

اگر ہم دیکھنے کے ساتھ ساتھ علم فلکیات، رصد گاہوں اور سیٹلائٹ وغیرہ کی مدد حاصل کریں تو صد فیصد یقین کے ساتھ معلوم کیاجاسکتا ہے کہ چاند کس شہر میں کس وقت طلوع ہوگا اور اس طرح اس جھگڑے پر قابو پایاجاسکتاہے۔ اس کے ساتھ ہم غیر مسلموں کے سامنے اپنے اتحاد واتفاق کانمونہ بھی پیش کرسکتے ہیں۔

اگر سارے ملک میں ایک ساتھ رمضان اورعید منائیں۔ اگر سارے ملک میں ایک ساتھ رمضان اور عیدکرنا ممکن نہ ہوسکے تو کم از کم اتنا ضرورہونا چاہیے کہ ایک علاقے کی حد تک رمضان اور عید ایک ساتھ ہو۔ کیونکہ یہ صورتحال نہایت تکلیف دہ ہے کہ ایک ہی علاقہ اور شہر میں دو الگ الگ دنوں میں عید کی نماز پڑھی جائے اور دو الگ الگ دنوں میں رمضان کا آغاز ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا دین اسلام اس قسم کےتفرقہ کی بالکل اجازت نہیں دیتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت