گئی ہیں اور فضا میں متعدد سیارچے (Satellite) تیررہے ہیں، جن سے چاند کی گردش کی مکمل خبر رہتی ہے۔ ان تمام ذرائع سے اب اس بات کا صد فی صد یقینی علم رکھنا بہت آسان ہوگیا ہے کہ چاند کسی شہر میں کتنے بج کر کتنے منٹ پرطلوع ہوگا۔ اب علم کے معاملے میں بڑے اور چھوٹے شہروں کی کوئی تفریق نہیں رہ گئی ہے۔ اس لیے کہ ذرائع مواصلات اتنے تیز ہیں کہ کوئی بھی خبر پل بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر کے علماء کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ چاند کے طلوع ہونے یا نہ ہونے کے سلسلے میں علم فلکیات کی خدمت حاصل کی جائے۔ کیونکہ یہ علم صد فی صد صحیح واقفیت فراہم کرسکتا ہے۔ اس طرح سے ہر قسم کے اختلاف سے بچا جاسکتا ہے۔
بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ فلکی اعداد وشمار سے مراد وہ جنتریاں یا کیلنڈر ہیں، جن میں سال بھر کی تاریخ، نمازوں کے اوقات، قمری مہینوں کا اندراج اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ہے۔ یہ جنتریاں ہمارے بازاروں میں بھی کثرت سے فروخت ہوتی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دن تاریخ اور وقت کے معاملہ میں ان جنتریوں میں بڑا اختلاف ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنتریاں جو معلومات فراہم کرتی ہیں ان کی بنیاد ٹھوس علمی اور سائنسی حقائق پر نہیں ہوتی۔ اس لیے ان جنتریوں پر اعتماد کرنا غلط ہے۔ فلکی اعدادوشمار سے مراد وہ ٹھوس علمی اور سائنسی معلومات ہیں جو فلکی رصد گاہیں (دوربین) سیارچے (Satellite) اور علم فلکیات پیش کرتےہیں۔ اور جن کی بنیاد تجربے اور مشاہدے پر ہوتی ہے اور جن میں غلطی کا احتمال تقریبًا ناممکن ہوتا ہے۔
بعض علماء اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں علم فلکیات اور اس کی فراہم کردہ معلومات کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور روزہ ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھیں اور عید منائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ علم فلکیات کی فراہم کردہ معلومات کو نظر انداز کردینا اور صرف چاند دیکھنے پر اصرار کرنا صحیح بات نہیں ہے کیوں کہ: