فهرس الكتاب

الصفحة 88 من 328

جانتے ہیں۔''

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات چاند کے طلوع کا حساب لگانے کےسلسلے میں فرمائی تھی کہ ہم تو اَن پڑھ لوگ ہیں چاند کے طلوع کا حساب کتاب لگانا کہاں آتا ہے۔ اس بنا پر حنبلی مسلک کے ماننے والے کہتے ہیں کہ اگرہم مسلمانوں کو اس بات کا مکلف کردیا جائے کہ ہم اعداد وشمار کے ذریعے چاند کے طلوع ہونے کا اندازہ لگائیں تو یہ بڑی پریشان کن بات ہوگی۔ کیونکہ فلکیات کے اعداوشمار سے واقف کار حضرات مسلمانوں میں شاذونادر ہی پائے جاتے ہیں اور وہ بھی صرف بڑے شہروں میں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس حدیث سے یہ مفہوم اخذکرنا کہ اعداد وشمار کے ذریعے چاند کے طلوع کا اندازہ لگانے سےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، غلط ہے۔ اس حدیث میں فقط اتنی بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اُمت اَن پڑھ ہے۔ یہ حساب کتاب اور اعدادوشمار سے ناواقف ہے۔ اس لیے اس اُمت سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ چاند کے طلوع ہونے کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگا سکتی ہے اس حدیث میں حساب لگانے اور اعدادوشمار کرنے سے منع کیا گیا ہے اور نہ اس بات کی ترغیب دی گئی ہے۔ کہ ہم اَن پڑھ اُمت ہیں اور ہمیشہ اَن پڑھ ہی رہیں۔ چنانچہ اس اُمت میں جہالت اورناخواندگی کے خلاف آواز اُٹھانے والے سب سے پہلے شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ اور اسی اسلامی تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ جلد ہی مسلمانوں میں تعلیم عام ہوگئی۔ وقت کے جید علماء پیدا ہوئے اور وہ دور بھی آیا جب مسلمانوں میں سائنس دان، علماء ومشائخ اور ہر علم کے ماہرین کی اچھی خاصی تعدادپائی جانے لگی۔

یہ کہنا بھی غلط ہے کہ فلکیات کاعلم صرف شاذ و نادر ہی لوگ رکھتے ہیں اور وہ بھی صرف بڑے شہروں میں۔ یہ بات پرانے زمانے میں تو صحیح ہوسکتی تھی لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں صحیح نہیں کیونکہ اب علم فلکیات دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔

چاند کے گردش اور اس کے مدارج پر نگاہ رکھنے کے لیے بڑی بڑی رصد گاہیں بنائی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت