1۔ عوامی طاقت ہو، کسی بھی جمہوری ملک میں عوام کی آواز سے بڑھ کر اور کوئی طاقت نہیں ہوسکتی۔
2۔ ملک کے پارلیمنٹ میں عوام کا اپنا اثرورسوخ پیداکرنا، کیونکہ پارلیمنٹ ہی سب سے مؤثر ادارہ ہے جسے قوانین بنانے، انھیں نافذ کرنے یا انھیں ختم کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں۔
3۔ ملک کی فوج میں عوام کااپنااثرورسوخ بنانا، کیونکہ حکومت کے لیے فوج کے مطالبات کوٹھکرانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ اگر فوج چاہے تو حکومت کو اس کے غلط اقدامات سے روک سکتی ہے۔
آخرمیں ان لوگوں سے کچھ کہنا چاہوں گا جومعاشرہ میں برائیوں کے خاتمہ کا نیک ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے کچھ عملی اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ صدیوں سے ہماری قوم جہالت اور گمراہی میں مبتلا ہے، جس کی وجہ سے اس قوم میں بُرائیاں جڑپکڑ چکی ہیں۔ اس لیے جب تک بنیادی اور اصل برائیاں نہیں دور کی جائیں گی اس وقت تک خاطر خواہ نتائج سامنے آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ جن برائیوں کوبنیادی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ انھیں اگربزور طاقت دور بھی کردیا جائے تو بھی بنیادی خرابیاں معاشرے کو ہمیشہ کھوکھلا اور تباہ وبرباد کرتی رہیں گی۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے بنیادی خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ بنیادی خرابیوں سے میری مراد ہے۔ جہالت، ناخواندگی، صحیح دین سے ناواقفیت اور اچھے اور اعلیٰ کردار کا فقدان وغیرہ وغیرہ۔ جب تک ان خرابیوں کودورنہیں کیا جائےگا۔ اس وقت تک محفل موسیقی کو زبردستی بندکرانے، عورتوں کو زبردستی برقعے پہنوانے اور گڑیوں کی دوکانوں کو توڑنے پھوڑنے سے فائدہ کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کی جہالت دور کی جائے۔ ان میں دینی ودنیاوی تعلیم عام کی جائے۔ انھیں صحیح دین سے واقف کرایاجائے