روک تھام کی کوشش کرے۔ مثلًا شوہر اپنے گھر والوں کے درمیان رونما ہونے والی خرابیوں اور برائیوں پر نظر رکھے اور انھیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح حاکم وقت اپنے ملک کے حدود میں رہتے ہوئے برائیوں کی روک تھام کے لیے قوت کا استعمال کرسکتاہے۔
4۔ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ برائیوں کی روک تھام کے لیے طاقت کا استعمال کسی بڑی برائی یا فتنے کا سبب نہ بن جائے۔ مثلًا خون خرابے کی نوبت آجائے یا اس بات کا اندیشہ ہو کہ جنھیں بُرائیوں سے روکا جارہا ہے وہ ضد میں آکر ہنگامہ مچائیں گے اور مزید برائیوں کا ارتکاب کرنے لگیں گے۔ اسی لیے علمائے کرام کہتے ہیں کہ ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"لولا أن قومك حديثوا عهد بشرك.... لبنيتها على أساس إبراهيم"
''اگر تمہاری قوم شرک کے زمانے سے بہت قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کی تعمیر ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر کرتا۔''
یعنی تمہاری قوم ابھی ابھی شرک سے نکلی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر کعبہ کی تعمیر کی تو تمہاری قوم ضد میں آکر دوبارہ شرک میں واپس چلی جائے گی۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتاتو میں ایساضرور کرتا۔
ذہنوں میں ایک اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ اگر برائیاں حکومت کی طرف سے پھیلائی جارہی ہوں تو کیا عوام حکومت کو ان برائیوں سے باز رکھنے کےلیے طاقت کا استعمال کرسکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے غیر منظم اور جذباتی انداز میں قوت کا استعمال خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس طرح کے اقدام سے پہلے ضروری ہے کہ عوام کے پاس حکومت پر اثر انداز ہونے کے لیے مناسب وسائل مہیا ہوں۔ دور جدید میں یہ مناسب وسائل حسب ذیل ہوسکتے ہیں: