مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں کوئی شخص چوری چھپے اپنے گھر کے اندرکسی بُرائی میں ملوث تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسےبرائی سے روکنے کے لیے چپکے سے اس کےگھر کے پچھواڑے سے اندر آگھسے اوررنگے ہاتھوں اسے پکڑ لیا۔ اس شخص نے کہا کہ اےامیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے تو بُرائی کرکے صرف ایک گناہ کیا ہے۔ لیکن آپ نے اس طرح میرے گھر میں گھس کر تین گناہ کیے ہیں۔ پہلا گناہ یہ ہے کہ آپ نے تجسس کیا اورمیری ٹوہ میں لگے رہے حالانکہ اللہ نے تجسس اور ٹوہ میں لگے رہنے سے منع کیا ہے ۔ دوسرا گناہ یہ ہے کہ آپ میرے گھر کے پچھواڑے سے چوری چھپے میرے گھر کے اندر آئے حالانکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جب کسی کے گھر جاؤ توگھر کے دروازے سے جاؤ۔ تیسرا گناہ یہ ہے کہ آپ میرے گھر کے اندر بغیر میری اجازت اور بغیر سلام کیے داخل ہوئے۔ حالانکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جب کسی کے گھر جاؤ تو سلام کرو اور اس کی اجازت ملے تب اندر جاؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور بہت نادم ہوئے۔
3۔ تیسری شرط یہ ہے کہ بُرائیوں کو بزور طاقت روکنے والے کے پاس ان کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ استطاعت اور مادی ومعنوی وسائل مہیا ہوں اسی لیے مذکورہ حدیث میں یہ بات کہی گئی ہے کہ جو شخص اس طرح کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے طاقت کے بجائے صرف زبان کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کے زورپر برائیوں کی روک تھام کے لیے اس کی استطاعت اور اس کے لیے مناسب وسائل کا مہیا ہونا ضروری ہے۔ بعض لوگ وسائل مہیانہ ہونے کے باوجود محض جذبات میں آکر طاقت کا استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ اقدام غیر حکیمانہ اور حدیث کے مزاج کےخلاف ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے بُرائیوں کے دور ہونے کے بجائے نئے نئے مسائل اور فتنے جنم لیتے ہیں۔
مناسب یہ ہوگا کہ ہرشخص اپنے ہی اثرورسوخ والے علاقہ میں رہ کر برائیوں کی