اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں علماء کے درمیان اختلاف ہوتا ہے۔ بعض انھیں گناہ قرار دیتے ہیں اور بعض انھیں جائز اور مباح تصور کرتے ہیں مثلًا سگریٹ کا استعمال کرنا یا موسیقی کے ساتھ گانا سننا وغیرہ۔ اس طرح کے اختلافی مسائل بھی منکر کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ بعض سخت گیر قسم کے مسلمانوں نے دکانوں میں گُھس کر گڈیوں اور کھیلنے کے مجسموں کو توڑنا پھوڑنا شروع کر دیا اور اس طرح ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ حالانکہ ان کا یہ عمل صحیح نہیں تھا ۔ کیونکہ گڈیوں اور مجسموں سے کھیلنا ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی نظر میں یہ بات ناجائز ہو لیکن بہت سارے علماء گڈیوں سے کھیلنے کو جائز قراردیتے ہیں۔ کوئی ضروری تو نہیں کہ جو مسلک وہ اختیار کریں۔ سارےمسلمان وہی مسلک اختیار کر لیں۔ آخر کس بنا پر وہ اپنی مرضی اور اپنا مسلک دوسروں پر تھوپ سکتے ہیں۔
غرض کہ اس طرح کے اختلافی مسائل میں سخت گیر موقف اپنانا یا چھوٹے چھوٹے گناہوں کی روک تھام کے لیے طاقت کا استعمال کرنا کسی طرح مناسب اقدام نہیں ہے۔
(2) دوسری شرط یہ ہے کہ جس منکر کی روک تھام مقصود ہو معاشرہ میں علانیہ طور پر اور کھلم کھلا اس کا ارتکاب ہو رہا ہو، کیونکہ حدیث کے الفاظ ہیں:"من رأي"جس کا مفہوم یہ ہےکہ وہ منکر لوگوں کی نظر میں آجائے۔ اگر کوئی شخص چوری چھپے یا اپنے گھر میں بیٹھ کر کسی منکر کا ارتکاب کررہا ہے تو اسے بذور طاقت روکنا ہماری ذمے داری نہیں ہے۔ یہ اس کے اور اس کے خدا کے درمیان کا معاملہ ہے۔ چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تومعاف کردے۔ جیساکہ حدیث شریف میں ہے:
"كُلُّ أَمَّتِى مُعَافًى إِلاَّ الْمُجَاهِرِينَ"
''میری اُمت کا ہر شخص قابلِ معافی ہے سوائے ان لوگوں کے جو کھلم کھلا بُرائیاں کرتے ہیں۔''