فهرس الكتاب

الصفحة 325 من 328

اور ان میں اعلیٰ کردار پیدا کیاجائے۔ اگر ایسا کیاگیا تو چھوٹی چھوٹی اور غیر بنیادی خرابیاں خود بہ خود زائل ہوجائیں گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ بُرائیوں کے ازالے کے لیے حکمت ودانائی کا استعمال بہت ضروری ہے۔ آج ہماری دعوتی سرگرمیوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم حکمت ودانائی کا راستہ اختیار کرنے اور نتائج پر نظر رکھنے کے بجائے محض جذباتی انداز میں دعوت کا کام کرتے ہیں۔ جہاں نرمی اختیار کرنی چاہیے وہاں بحث ومباحثہ اور تشدد پراتر آتے ہیں بلکہ بسااوقات لڑائی جھگڑے کی نوبت آجاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمت کاراستہ اختیارکیا جائے اور نرمی اور رغبت دلانے والاانداز اپنایا جائے اور ہرقدم نتائج پر نظر رکھتے ہوئے اور موقع ومناسبت کا خیال کرتے ہوئے اٹھایا جائے۔ اللہ کافرمان ہے:

"ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ" (النحل:125)

''اپنےرب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے بہت اچھے طریقے سے مباحثہ کیا کرو۔''

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام کوفرعون جیسے ظالم وجابرحکمران کے پاس بھیجا تو انھیں بھی نرمی اختیار کرنے کی ہدایت کی۔

"اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى (43) فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى" (طہٰ:43)

''تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ اس نے سرکشی کی ہے۔ پس تم دونوں اس سے نرم باتیں کہوشاید کہ وہ نصیحت حاصل کرلے یا اس کے اندرڈرپیدا ہوجائے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت