مزید یہ کہ گانا سننا اوراس سے محظوظ ہونا بالکل فطری (Natural) بات ہے ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ بچہ جب روتا ہے تو ماں اسے لوری گا کر چپ کراتی ہے ۔ گانے کی طرف مائل ہونا اور اس کی خواہش کرنا ایک فطری تقاضا ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے ۔ وہ انسان کی فطری ضرورتوں پر مکمل پابندی نہیں لگاتا ہے ۔ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو فطرت کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے نہ کی فطرت کو بدلنے اوراس پر روک لگانے کے لیے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض حبشی جب مسجد نبوی میں کھیل تماشے دکھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع نہیں کیا بلکہ خود بھی کھیل تماشا دیکھ کر محظوظ ہوتے رہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ ہم اکتا گئی۔ گانا اگر لہو و لعب ہے تو اسلام نے ہر قسم کے لہو و لعب کو نہیں حرام قرار دیا ہے ۔ بلکہ بعض لہو ولعب مباح اور جائز بھی ہیں جیساکہ مذکورہ حدیث سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے اندر کھیل تماشے دکھانے کی اجازت دی۔ انسان ہمیشہ سنجیدہ نہیں رہ سکتا۔ لہو ولعب کی طرف مائل ہونا ایک فطری بات ہے ۔ سنجیدگی کے ماحول سے نکل کر تھوڑی دیر کے لیے تفریح حاصل کرنا ایک فطری تقاضا ہے ۔ جبھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:''يَا حَنْظَلَةُ! سَاعَةً وَّ سَاعَةً'' (اے حنظلہ چند گھڑی نہایت سنجیدگی کےماحول میں گزرتی ہے اور چند گھڑی اس سے مختلف ماحول میں) انسان ایک جیسے موڈ میں ہمیشہ نہیں رہ سکتا۔ اسے بھی جائز تفریح کی اشد ضرورت ہے ۔ یہی وہ معتدل اور متوازن طریقہ زندگی ہے جس کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث میں اشارہ کیا ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
روحوا القلوب ساعة بعد ساعة فان القلوب اذا اكرهت عميت