''دلوں کو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد تفریح پہنچایا کرو کیونکہ دلوں میں اکتاہٹ آ جائے تو دل اندھے ہو جاتے ہیں ۔ ''
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں تھوڑی دیر کے لیے لہو و لعب میں مشغول رہتا ہوں تاکہ ان کے ذریعے تازہ دم ہو کر نیک کاموں کے لیےچست اور پھرتیلا ہوسکوں ۔
یہ ہیں وہ بعض دلیلیں جو گانے کے جواز کے حق میں پیش کی جاتی ہیں اور یہ دلیلیں کافی مضبوط اور صریح ہیں ۔ ان دلائل کی مضبوطی کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ، تابعین اور فقہاء کرام کی اکثریت گانے کو مباح اور جائز تصور کرتی تھی۔ چنانچہ مدینے کے لوگ اپنے زہدو تقویٰ میں مشہور ہونے، اہل ظاہر قرآن و سنت کے ظاہری الفاظ پر عمل کرنے اور صوفیائے کرام دنیوی لذات سے بے نیاز رہنے کے باوجود گانے کو جائز اور حلال سمجھتے تھے امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہورکتاب نیل الاوطار میں رقم طراز ہیں کہ اہل مدینہ اور اہل ظاہر گانے کو جائز سمجھتے ہیں خواہ یہ گانا عود (ستار) کی موسیقی کے ساتھ ہو۔ امام الحرمین فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چند لونڈیاں تھیں جو عود (ستار) پر گانا گایا کرتی تھیں اور عبداللہ بن زبیر انھیں سنتے تھے۔ مشہور تاریخ دان ابو الفرج اصفہانی لکھتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بعض اشعار ستار پر بجا کرسنے۔ اہل مدینہ اس بات پر متفق ہیں کہ ستار کا بجانا جائز ہے مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے تھی کہ معازف (موسیقی) کے آلات مباح اور جائز ہیں ان کے علاوہ بہت سارے تابعین مثلًاقاضی شریح، سعید بن المیسب رحمۃ اللہ علیہ، عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ، امام زہری رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ گانے کو حلال اور جائز تصور کرتے تھے ۔ یہ تمام لوگ موسیقی کے ساتھ بھی گانے کو مباح سمجھتے تھے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بغیر موسقی کے گانے کے جائز ہونے پر تو تمام لوگ متفق ہیں انھوں نے اپنی مشہور تصنیف میں متعدد صحابہ کرام اور تابعین کے نام گنائے ہیں جو گانے کو مباح سمجھتے تھے۔ مثلًا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ،