فهرس الكتاب

الصفحة 241 من 328

میں ایک شادی کی تقریب میں قرطہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو مسعودانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا۔ وہاں کچھ لڑکیاں گانا گارہی تھیں۔ انھوں نے ان دونوں سے پوچھا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو!تمہاری نگاہوں کے سامنے یہ سب ہو رہاہے؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ تمہیں گانا سنناہے تو سنو۔ نہیں سننا ہے تو جاؤ شادی بیاہ کے موقع پر گانا بجانا جائز ہے۔

ان کے علاوہ متعدد صحیح احادیث ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گانا حلال اور جائز ہے۔

عقلی دلیل:

ذرا آپ غور کریں کہ گانا کیا چیز ہے؟ گانا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ یہ ایک عمدہ اور خوش گوارشے ہے جس کا سننا اچھا لگتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گانا کان کی عمدہ غذا ہے۔ اسی طرح جس طرح کھانا پیٹ کی غذا ہوتا ہے۔ اچھے مناظر آنکھوں کی غذا ہوتے ہیں اور اچھی خوشبو ناک کی غذا ہوتی ہے۔ جس طرح خوشبو اور بھلے مناظر حرام نہیں ہیں اسی طرح کانوں کی غذا (گانا) بھی حرام نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام کا مزاج یہ نہیں ہے کہ اچھی بھلی چیزوں کو حرام قراردے۔ بعض لوگ اور خاص کر سخت گیر قسم کے لوگ اسلام کے سلسلے میں یہ انتہائی غلط تصور رکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو عمدہ لگے اور اس میں مزہ آئے وہ اسلامی نقطہ نظر سے درست نہیں ہے یہ تصور صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ہر عمدہ اور بھلی چیز کو ہمارے لیے حلال قرار دیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

"يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ" (المائدہ:4)

''یہ تم سے سوال کرتے ہیں ان کے لیے کیا چیز یں حلال کی گئی ہیں ان سے کہو کہ تمہارے لیے عمدہ اور بھلی چیز یں حلال کی گئی ہیں۔''

کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام یا حرام کردہ چیزوں کو حلال قراردے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت