فهرس الكتاب

الصفحة 240 من 328

لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑدیا۔ ان سے کہو کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے بہترین رزق دینے والا ہے۔''

اس آیت میں لہو ولعب اور تجارت دونوں کا تذکرہ ایک ساتھ ہے اس میں ان دونوں چیزوں کی مذمت محض اس وجہ سے کی گئی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کا خطبہ چھوڑ کر ان میں مشغول ہو گئے تھے ظاہر ہے کہ اگر وہ جمعہ کا خطبہ نہ چھوڑتے تو نہ تجارت پر ان کی مذمت ہوتی اور نہ لہو پر۔

بخاری شریف میں یہ مشہور واقعہ درج ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے۔ گھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ کچھ لڑکیاں بیٹھ کر گا رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں گانے سے روکنا چاہا اور کہنے لگے کیا شیطان کی بانسری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بجائی جا رہی ہے؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ موسیقی کے ساتھ گا رہی تھیں ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا کہ ایسا کرنا، اور وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں، گناہ ہے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کوگانے سے روکنے کے بجائے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ انھیں گانے دو۔ ذرا یہودی بھی جان لیں کہ ہمارے دین میں بھی تفریح اور وسعت ہے۔

اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کو گانے دیا اور اس بنا پر یہ ایک جائز چیز ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم دوسری قوموں کی نظر میں دین اسلام کی تصویر کو بہتر اور عمدہ بنانے کی کوشش کریں۔

بخاری شریف ہی کی ایک اور حدیث ہے کہ ایک لڑکی کی رخصتی ہو رہی تھی اور اس خوشی کے موقع پر کسی گانے بجانے کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ کوئی گانا بجانا کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ انصار کو تو گانا بجانا بہت پسند ہے۔ نسائی اور حاکم کی صحیح حدیث ہے کہ حضرت عامہ بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت