خلاصہ کلام یہ کہ گانے کو حرام قراردینے والے اپنی رائے کے حق میں جتنی دلیلیں پیش کرتے ہیں وہ یا تو گانے کی حرمت کے سلسلے میں صریح اور واضح نہیں ہیں یا پھر صحیح اور ثابت نہیں ہیں علامہ قاضی ابو بکر اپنی کتاب ''الاحکام'' میں کہتے ہیں کہ گانے کو حرام قراردینے والی کوئی دلیل صحیح اور ثابت نہیں ہے۔ علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ گانے کی حرمت ثابت کرنے کے لیے جتنی احادیث پیش کی جاتی ہیں وہ سب کی سب ضعیف اور موضوع ہیں۔
جائز قراردینے والوں کی دلیلیں
ہم واضح کر چکے ہیں کہ بنیادی طور پر ہر چیز حلال ہے۔ سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر حرام قراردیا ہو۔ اس لیے کسی چیز کے حرام ہونے کے لیے دلیل پیش کرنا تو ضروری ہے لیکن اس کے حلال ہونے کے لیے دلیل پیش کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف یہی دلیل کافی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں قراردیا ہے اوپر کی گفتگو میں ہم نے واضح کیا ہے کہ گانے کو حرام قراردینے کے لیے جتنی دلیلیں پیش کی جا تی ہیں وہ ضعیف اور غیر ثابت شدہ ہیں۔ اس لیے گانے کو حلال قراردینے کے لیے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ہم بعض دلیلیں پیش کرتے ہیں۔
قرآن وحدیث سے دلائل
"وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنَ اللّٰه وِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللّٰهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ" (الجمعہ:11)
''اور جب انھوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف