بجانے کوحلال کر لیں گے۔''
لیکن یہ حدیث بھی بہ طور دلیل نہیں پیش کی جا سکتی ۔ اس لیے کہ بخاری شریف میں ہونے کے باوجود علمائے حدیث اسے ''معلق'' شمار کرتے ہیں اور اس بنا پر یہ ضعیف حدیث ہے اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی شے کو حرام قرار دینے کے لیے ضعیف حدیث کو بہ طور دلیل نہیں پیش کیا جا سکتا ۔
(4) ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔
"إن اللّٰه حرم الْقَيْنَة وَبَيْعهَا وَثمنهَا وَتَعْليمهَا " (روح المعانی سورہ لقمان)
''اللہ تعالیٰ نے گانے بجانے والی لونڈیوں کی خریدو فروخت اس سے حاصل شدہ رقم اور اس کی تعلیم کو حرام قراردیا ہے۔''
لیکن یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ اس لیے بطور دلیل نہیں پیش کی جا سکتی خاص کر اس حالت میں کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کو گاتے بجاتے سنا اور انھیں منع نہیں فرمایا اس حدیث کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا۔
(5) ان کی دلیل یہ روایت بھی ہے:"إن الغناء ينبت النفاق في القلب"
''گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔''
لیکن یہ کوئی حدیث نہیں ہے کہ اسے بہ طور دلیل پیش کیا جا سکے ۔ یہ کسی صحابی کا قول ہے اور یہ ان کی اپنی ذاتی رائے ہے کہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم ان کی ذاتی رائے سے اتفاق کریں عملی طور پر بھی ہم مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ گانا دل میں نفاق پیدا نہیں کرتا بلکہ اس سے دل میں تازگی اور ذہن میں نشاط پیدا ہوتا ہے۔
(6) ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ عورت کی آواز پردہ ہے اس لیے عورت کا گانا سننا حرام ہے یہ ایک بوگس دلیل ہے۔ کیونکہ اسلامی شریعت میں کہیں یہ بات نہیں آتی کہ عورت کی آواز پردہ ہے اور اس کا سننا حرام ہے بلکہ اس کے برعکس صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کو گاتے سنا اور انھیں منع نہیں فرمایا۔