فهرس الكتاب

الصفحة 237 من 328

باتیں ہیں۔ یعنی جب کوئی شخص ان مومنین سے گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر اتر آتا ہے تو یہ مومنین ان سے الجھنے کے بجائے درگزر کر کے اپنی راہ لیتے ہیں اور اگر بالفرض لغو سے مراد گانا تسلیم کر لیں تب بھی اس آیت میں یہ بات نہیں ہے کہ لغو حرام ہے بلکہ صرف اتنی سی بات ہے کہ مومنین اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ کسی شے سے پرہیز کرنا اور بات ہے اور اس کا حرام ہونا بالکل دوسری بات ہے۔ کوئی ضروری نہیں کہ ہر لغو بات گناہ ہو۔بعض لغو باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر اللہ گرفت نہیں کرتا ملا حظہ کریں:

"لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ" (المائدہ:89)

''تم جو لغو قسم کی قسمیں کھا لیتے ہو اللہ ان پر گرفت نہیں کرتا۔''

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا مواخذہ نہیں کرے گا جو لغو طریقے سے اللہ کے نام کی قسم کھاتےہیں تو ان لوگوں کا مواخذا کیسے کرے گا جو اشعار کو نغموں اور گانوں کی شکل میں گاتے اور سنتے ہیں۔

علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چونکہ اعمال کا دارومدارنیت پر ہے اس لیے جو شخص گمراہی اور اللہ کی نا فرمانی کے لیے گانا بجانا کرتا ہے وہ فاسق ہے۔ اس لیے کہ اس کی نیت اللہ کی نا فرمانی ہے، لیکن محض تفریح، سکون اور ذہنی نشاط کے لیے گانے گانا یا سننا گناہ نہیں ہے۔ اور جو شخص اس نیت کے ساتھ نغمے سنتا ہے کہ وہ تازہ دم ہو کر اللہ کی عبادت بہتر طور پر کر سکے۔ اس کا یہ عمل باعث اجرو ثواب ہے۔

(3) گانے کو ناجائز قراردینے والوں کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث بھی ہے:

"لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ" (بخاری)

''میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور گانے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت