کہ اس سے مراد گانا ہے۔ لیکن اگر ہم آیت کے سیاق و سباق پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں گانے کو حرام قراردینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور نہ لہو الحدیث سے مراد گانا ہی ہے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے اور انھیں سخت عذاب کی دھمکی دے رہا ہے جو محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے لہو الحدیث اختیار کرتے ہیں لہو الحدیث کا مفہوم ہے فضول اور بے کار بات۔ کسی کو گمراہ کرنے کے لیے قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کو استعمال کیا جائےتب بھی یہ عمل قابل مذمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں"لہو الحدیث"پر سرزنش نہیں کی گئی ہے بلکہ گمراہ کرنے کے عمل کو قابل مذمت قراردیا گیا ہے۔
اس آیت سے یہ مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ گانا سننا حرام ہے علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مذکوہ آیت کی بنیاد پر گانے کو حرام قراردینا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ محض چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اپنی ذاتی رائے تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی رائے کو بہ طور دلیل نہیں پیش کیا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ بیشتر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس رائے سے اختلاف رکھتے تھے۔
(2) گانے کو حرام قراردینے کے لیے یہ لوگ قرآن کی اس آیت کو بھی بہ طور دلیل پیش کرتے ہیں۔
"وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ" (القصص:55)
اور جب وہ بیہودہ گفتگو سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔
چونکہ گانا لغو میں شامل ہے اس لیے مومنین کو اس کے سننے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں بھی اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ گانا لغوں میں شامل اور حرام ہے۔ اس آیت میں لغو سے مراد گالم گلوچ فضول گوئی اور لڑائی جھگڑے کی