ف 4 یعنی تم کفار کی اطاعت تو اس لیے کرو گے کہ وہ تمہاری کچھ مدد کریں مگر یہ سراسرجہالت ہے۔ دراصل تمہارا حامی وناصر اللہ تعالیٰ ہے اس پر بھروسہ رکھو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہار بال بیکا نہیں کرسکتی یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خیر الناصرین محاورہ کلام کے اعتبار سے فرمایا ہے ورنہ یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ بھی ان ناصرین کی جنس سے ہے۔ کبیر)