فهرس الكتاب

الصفحة 60 من 188

۹: سورۃ الحدید کی آیت:{ھو الاول والآخر…}الآیۃ:

امام ابوداؤد نے ابوزُمیل سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انھوں نے بیان کیا: ''میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا:

''میں اپنے سینے میں جو پاتا ہوں، (وہ) کیا چیز ہے؟''

انھوں نے فرمایا: ''وہ کیا ہے؟''

میں نے عرض کیا: ''اللہ تعالیٰ کی قسم! میں اسے زبان پر نہیں لاسکتا۔''

انھوں نے بیان کیا: ''تو انھوں نے مجھ سے فرمایا: ''کیا وہ شک (شبہے والی بات) ہے؟''

انھوں نے بیان کیا: ''پھر انھوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما ) نے مجھ سے فرمایا:

''جب تم اپنے نفس میں کوئی (ایسی) چیز پاؤ، تو پڑھا کرو:

ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ [1] } [2]

[وہی سب سے پہلے ہیں اور سب سے پیچھے ہیں اور ظاہر ہیں اور چھپے ہوئے ہیں اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں۔]

امام ابوداؤد نے اس روایت کو درجِ ذیل عنوان والے باب میں روایت کیا ہے:

[وسوسے کو دور کرنے کے متعلق باب] [3]

[2] سنن أبي داود، کتاب الأدب، جزء من رقم الحدیث ۵۰۹۹، ۱۴/۱۰۔ شیخ البانی نے اس کی [سند کو حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابی داود ۳/۹۶۲) ۔

[3] سنن أبي داود ۱۴/۱۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت