فهرس الكتاب

الصفحة 91 من 108

'' اللّٰه ربي وبہ أحلف لینصرن المؤمنین ۔''

''اللہ میرا رب ہے 'اور میں اسی کی قسم اٹھاتا ہوں ! وہ ضرور مؤمنین کی مدد کرے گا۔''

تاء: جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{ تَاللّٰهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُونَ} (النحل:۵۶)

'' اللہ کی قسم! جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہو گی۔''

اس کے ساتھ بھی عامل ( قسم اٹھانے والے ) کو وجوبًا حذف کیا جاتاہے ۔اور اس کے ساتھ سوائے لفظ جلالہ'' اللہ '' (اسم ذات ) کے کوئی اور اسم جیسے رب وغیرہ نہیں آسکتا ۔ یہ جائز نہیں کہ کوئی کہے:

''ترب الکعبہ لأحجن إن شاء اللّٰه۔''

''مجھے رب کعبہ کی قسم ہے ! میں ان شاء اللہ ضرور حج کروں گا۔''

اور مقسم بہ ( جس کی قسم اٹھائی جارہی ہو) کا ذکر کرنا ہی اصلی صورت ہے جیسے سابقہ مثالوں میں بیان کیاگیاہے ۔اور بسا اوقات اکیلے مقسم بہ کو حذف کیا جاتا ہے ' جیسے آپ کا یہ قول:

''أحلف علیک لتجتہدن۔''

''میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور محنت کریں گے۔''

کبھی یہ عامل کے ساتھ حذف کیا جاتا ہے۔اور ایسا ہونا بہت زیادہ ہے ، جیسے فرمان الٰہی ہے:

{ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ } (التکاثر:۸)

'' پھر اس روز تم سے (شکرِ) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی۔''

اصل میں مقسم علیہ کو ذکر کرنا چاہیے، یہ قرآن میں بہت زیادہ ہے، فرمان الٰہی ہے:

{قُلْ بَلَی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ} (التغابن:۷)

''کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔''

اور کبھی اسے جوازًا حذف بھی کیا جاتا ہے ' جیسا کہ فرمان ِالٰہی ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت