فهرس الكتاب

الصفحة 23 من 108

کے پاس فرشتہ آیا ۔ اورکہا: پڑھیے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔'' (یعنی پڑھنا نہیں جانتا) پوری حدیث بیان کی ۔جس میں ہے پھر کہا:

{اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ… إلی قولہ …عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ } (العلق:۱تا۵)

''پڑھ اپنے پروردگا رکے نام سے جس نے پیدا کیا،…اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہیں تھا۔'' [1]

اور صحیحین میں ہی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ''بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی منقطع ہونے والے زمانے کے بارے میں بیان کر رہے تھے ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' ایک روز میں چلے جارہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی ۔ … پھر پوری حدیث بیان کی ' اس میں ہے:پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں:

{ یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَأَنْذِرْ o… إلی قولہ … وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}

''اے جو کپڑا لپیٹنے والے! اٹھیں اور ڈرائیں … اور ناپاکی سے دُور رہو۔''

ان آیات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قرآن میں سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس اعتبار سے کہ کسی معین چیز کے بارے میں یہ پہلی آیات ہیں ۔ اس لحاظ سے ان کی اولیت مقید ہوگی۔ جیسا کہ بخاری و مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے: '' بیشک ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: '' قرآن میں سب سے پہلے کون سی آیات نازل ہوئیں ؟ ۔ توحضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: {یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ} یہ سن کرابو سلمہرضی اللہ عنہ نے کہا: '' مجھے تو یہ بتایا گیا ہے کہ سب سے پہلے: {إِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ} نازل ہوئی ہے ۔

یہ سن کر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: '' میں آپ کو صرف وحی بات بتا رہا ہوں جو

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:''میں نے غار حرا میں مجاورت

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت