فهرس الكتاب

الصفحة 151 من 486

کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئیں۔جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے ہاں کتنا بڑا جرم ہے۔احادیث میں بھی اس کی بڑی سخت مذمت اور اس پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

70۔سفرِ جہاد کے بعض آداب:

سورۃ النساء (آیت:۹۴) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا}

''مومنو! جب تم اللہ کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے،اُس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو اور اس سے تمھاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو،پس اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے،پھر اللہ نے تم پر احسان کیا تو (آیندہ) تحقیق کر لیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو،اللہ کو سب کی خبر ہے۔''

71۔جان ومال سے جہاد کی فضیلت:

سورۃ النساء (آیت:۹۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَ کُلًّا وَّعَدَ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت