فهرس الكتاب

الصفحة 70 من 121

جھگڑے نمٹانے کے لیے کتاب و سنت کی طرف رجوع

ہمارے لیے اس واقعے میں افادیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے،کہ باہمی جھگڑے نپٹانے کے لیے لازمًا کتاب و سنت کی طرف رجوع کیا جائے۔

لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ روانہ کرنے میں صحابہ کرام کے مابین رائے کا اختلاف ہوا،تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لشکر کی روانگی کے سلسلے میں پیدا ہونے والے اختلاف کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف رجوع کرتے ہوئے نمٹادیا۔انھوں نے اپنے قول اور طرزِ عمل سے یہ واضح کردیا،کہ حالات خواہ کتنے ہی نازسازگار ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قطعًا انحراف نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:

''لَوْ خَطَفَتْنِیْ الْکِلَابُ وَالذِّئَابُ لَأَنْفَذْتُہٗ کَمَا أَمَرَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم،وَلَا أَرُدُّ قَضَائً قَضٰی بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔وَلَوْ لَمْ یَبْقَ فِی الْقُرٰی غَیْرِی لَأَنْفَذْتُہٗ۔'' [1]

''اگر مجھے کتے اور بھیڑیے اچک لیں،تب بھی میں اسے ویسے ہی نافذ کروںگا،جیسے اس کے نفاذ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا،میں کسی اس فیصلے کو رد نہیں کرسکتا،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہو۔اگر بستیوں میں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت