فهرس الكتاب

الصفحة 239 من 253

ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اس کو دفن کر دینا ہے۔

(( عَنِ ابْنِ عُمَرَ أنَّ النبيَّ قالَ في غَزْوَةِ خَيْبَرَ: مَن أكَلَ مِن هذِه الشَّجَرَةِ - يَعْنِي الثُّومَ - فلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنا ) ) [1]

ترجمہ: ''عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا کہ جو اس درخت یعنی لہسن کو کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب تک نہ آئے''۔

(( عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِبِنَاءِ الْمَسَجِدِ فِيْ الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ ) ) [2]

ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''محلوں میں مساجد بنائی جائیں اور ان کو صاف ستھرا رکھا جائے اور انہیں خوشبو لگائی جائے''۔

3۔ مسجدوں کو اللہ کی عبادت سے آباد کیا جائے

مساجد بنانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان میں اللہ کی عبادت کر کے آباد کیا جائے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا تو اس کا مقصد بھی واضح فرمایا کہ وہاں رکوع و سجود کرنے والے اور اعتکاف بیٹھنے والے اپنی عبادت کے ذریعہ سے مسجد کو آباد کریں۔ ارشاد ہوتا ہے:

(وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ

[2] ابوداود: كتاب الصلوٰة، باب اتخاذ المساجد في الدور، حديث: 455، ترمذي: كتاب الصلوٰة، باب ماذكر في تطييب المساجد، حديث: 594 تا 596، صحيح ابن ماجه: ابواب المساجد، باب تطهير المساجد و تطبييها، حديث: 758 تا 756

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت