فهرس الكتاب

الصفحة 623 من 720

واضح ہو کہ اس صورت میں اگر مرنے والے (خاوند) کی کئی بیویاں ہوں تو وہ سب ثمن،یعنی آٹھویں حصے کو آپس میں برابر تقسیم کر لیں گی۔

٭ ثلثان(دو تہائی2/3)مال کے کل تین حصوں میں سے دو حصے:

اس کے درج ذیل چار قسم کے وارث ہوتے ہیں:

1: دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں::جب ان کے ساتھ میت کا بیٹا،یعنی ان کا بھائی نہ ہو۔

2: دو یا دو سے زیادہ پوتیاں::یہ اس وقت 2/3کی وارث ہوتی ہیں،جب میت کی صلبی (حقیقی) اولاد:بیٹے،بیٹیاں یا پوتا،یعنی ان کا بھائی نہ ہو۔

3: دو یا دو سے زیادہ حقیقی بہنیں::یہ اس وقت 2/3 کی مستحق ہوں گی،جب میت کا باپ،مذکر و مؤنث حقیقی اولاد اور حقیقی بھائی موجود نہ ہو۔

4: دو یا دو سے زیادہ پدری بہنیں:جب ان کے ساتھ میت کا باپ،مذکر و مؤنث صلبی اولاد اور حقیقی بہن بھائی یا پدری بھائی موجود نہ ہوں۔

٭ ثلث (ایک تہائی1/3) کل تین حصوں میں سے ایک:

درج ذیل تین افراد اس (حصے) کے وارث ہیں:

1: ماں:اگر مرنے والے بیٹے،بیٹی کی اپنی مذکر و مؤنث اولاد نہ ہو یا مذکر اولاد کی اولاد نہ ہو اور نہ اس کے دو یا دو سے زیادہ مطلقًا بھائی بہنیں ہوں۔

2: دو یا دو سے زیادہ مادری بہن بھائی خواہ وہ صرف بہنیں ہوں یا صرف بھائی۔بشرطیکہ مرنے والے کا باپ،دادا اور اولاد یا بیٹے کی اولاد نہ ہو،یعنی میت کلالہ ہو۔٭

3: دادا:اگر میت کے بہن بھائی موجود ہوں اور ایک تہائی (1/3) اس کے لیے بڑا (کافی اور) وافر حصہ ہو،تاہم یہ اس صورت میں ہو گا جب دو سے زیادہ بھائی یا چار سے زیادہ بہنیں ہوں (ورنہ پھر مقاسمہ ہو گا) ۔

تنبیہ:باقی مال کا ثلث::یہ دو صورتیں ہیں جن میں ماں کو کل ترکے کا ثلث (1/3) کے بجائے بیوی یا خاوند کو دے کرباقی مال کا ثلث ملتا ہے:

1: ایک عورت فوت ہوگئی اور اپنے پیچھے صرف خاوند،باپ اور ماں کو چھوڑ گئی،اس صورت کا مخرج (اصل مسئلہ) چھ سے بنے گا:نصف (چھ کا نصف تین) خاوند کے لیے اور باقی نصف (تین) میں سے ماں کے لیے تہائی،یعنی ایک ہو گا،جبکہ باقی دو حصے عصبہ ہونے کی وجہ سے باپ کو مل جائیں گے۔

2: ایک شخص فوت ہو گیا اور اپنے پیچھے صرف بیوی،ماں اور باپ کو چھوڑ گیا تو اس کا مسئلہ چار سے بنے گا،جس میں

٭ بہن بھائی حقیقی ہوں،پدری ہوں یا مادری ہوں،یہ صرف اس میت کے وارث ہوتے ہیں جو کلالہ ہو،یعنی اس کی اولاد ہو نہ باپ۔ (ع،ر)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت