فهرس الكتاب

الصفحة 71 من 193

عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب تھے:''میرے باپ اور میری ماں (آپ پر قربان ہوجائیں) اور دو۔'' [1]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''وَاثْنَیْنِ۔'' [2]

''اور دو (بھی) ۔''

اس واقعہ میں یہ واضح ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انصاری خاتون کے بیٹے کی وفات پر گریہ و زاری کی خبر سن کر انہیں تسلی دینے اور سمجھانے کی غرض سے ان کے ہاں تشریف لے گئے۔

اس واقعہ میں دیگر چار فوائد:

۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثل تواضع۔

۲: دعوتی مشن میں ساتھیوں کو شریک کرنا۔

۳: سامع یا مخاطب کے اشکال پیش کرنے پر اظہار خفگی کی بجائے اس کا تسلی بخش جواب دینا۔

۴: مفید سوال سننا اور اس کا جواب دینا۔

ح:ابن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہاں روزوں میں اعتدال کی تلقین کی خاطر تشریف آوری:

امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:

''أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم ذُکِرَ لَہُ صَوْمِيْ، فَدَخَلَ عَليَّ۔ فَأَلْقَیْتُ

[2] منقول از:مجمع الزوائد، کتاب الجنائز، باب فیمن مات لہ ابنان، ۳/۸۔ حافظ ہیثمی لکھتے ہیں:اسے بزار نے روایت کیا اور اس کے راویان صحیح کے روایت کرنے والے ہیں۔'' (ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۳/۸) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت