اسی عرصے میں جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والی تین بیماریوں کے رجسٹر ہونے والے واقعات کی حسبِ ذیل تفصیل بیان کی گئی ہے:
ا: [Chlamydia] ۰۰۰،۴۴،۱۲
ب: [Gonorrhea] ۰۰۰،۰۱،۳
ج: [Syphilis] ۰۰۰،۴۵
''میں نے جب جنسی امراض اور ناجائز بچوں کی پیدائش میں بہت زیادہ اضافے کے بارے میں سنا، تو مجھے اس سے قطعًا کوئی تعجب نہ ہوا، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب جو کچھ ہورہا ہے، یہ اس کا طبعی نتیجہ ہے۔'' [2]
یہاں ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے، کہ جنسی امراض کی یہ کثرت ان ممالک میں بہترین طبی سہولتوں کی فراوانی کے باوجود ہے۔
جنسی امراض کی آئندہ نسلوں میں منتقلی
زنا کے نتیجہ میں جنم لینے والے جنسی امراض صرف زانیوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ آنے والی نسلوں کی طرف بھی منتقل ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل دو اقتباسات صورتِ حال کو توفیقِ الٰہی سے واضح کرتے ہیں:
اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
[2] منقول از کتاب: الأمراض الجنسیۃ ص ۱۷۔ مؤلف نے جس کتاب سے نقل کیا ہے، اس کے نام کا عربی ترجمہ [ کتاب التقدم الحدیث في علوم الأمراض الزہریۃ] لکھا ہے۔