فهرس الكتاب

الصفحة 183 من 333

د: (یُبْغِضُہُمُ اللّٰہُ) : یعنی ان سے نفرت اور دشمنی رکھیں گے۔ اور یہ سزا ان کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں ہیں۔ واللّٰہ تعالیٰ أعلم۔

ہ: (وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) : یعنی ان ہی کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔

علامہ واحدی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

''وہ ایسا عذاب ہوگا، جس کی اذیّت ان کے دلوں تک پہنچے گی۔'' [1]

و: (لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ) : یعنی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔

اس سے مراد ۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ یہ ہے، کہ وہ دیگر اہلِ ایمان کی طرح حساب و کتاب کے بعد سیدھے جنت میں داخل نہیں ہوں گے، بلکہ اپنی کرتوتوں کی سزا پانے کے لیے پہلے دوزخ میں داخل کیے جائیں گے۔

۲: امام ابن حبان نے دوسری روایت پر حسب ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[ذِکْرُ وَصْفِ أَقْوَامٍ یُّبْغِضُہُمُ اللّٰہُ جَلَّ وَعَلَا مِنْ أَجْلِ أَعْمَالٍ اِرْتَکَبُوْھَا] [2]

[قوموں کے اوصاف کا ذکر، جن سے اللہ تعالیٰ اُن کی کرتوتوں کی بنا پر نفرت اور دشمنی رکھتے ہیں]

۳: پہلی روایت میں ذکر کردہ لوگوں کے عذاب کی سنگینی کی حکمت کے متعلق علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

ان تینوں کی سزا اس لیے سنگین ہوئی، کیونکہ ان گناہوں کے ارتکاب کا باعث صرف اُن کی ہٹ دھرمی اور اُن گناہوں کے کرنے کو معمولی بات سمجھنا ہے۔

[2] ملاحظہ ہو: شرح النووي ۳/۱۱۶۔

[3] ملاحظہ ہو: المفہم ۱/۳۰۲۔

[4] ملاحظہ ہو: شرح النووی ۳/۱۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت